عربی زبان میں “موت” کے مختلف نام

موت

.. وہ شے ہے جس کے لیے عربی زبان میں کئی نام وارد ہوئے ہیں۔ ان میں بعض مجازی معنی رکھتے ہیں مگر عربی زبان کی اہم اور بڑی کتابوں نے ان کو بھی موت کے لیے مختص کر دیا۔

شَعُوبُ

یہ نام اس لیے دیا گیا کیوں کہ شَعَّبَ کا معنی فراق کو جنم دینا ہے۔ موت انسان کو اس کے گرد وپیش اور اطراف موجود انسانوں کے ساتھ فراق میں مبتلا کر دیتی ہے۔

أُمّ اللّهيم

موت کو اس نام سے بھی پکارا گیا۔ اس لیے کہ التَھَمَ کا معنی ہڑپ کرنا جانا یا ایک دم نگل جانا ہے اور موت بھی یہ ہی کرتی ہے !

النّيط

یہ دراصل اس موٹی رگ کو کہا جاتا ہے جو دل کا تعلق پھیپھڑوں سے قائم کرتی ہے۔ اگر یہ کٹ جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے “رماه الله بالنيط”…

الرَّمَد

ابن سیدہ (متوفی : 458 ہجری) نے اپنی کتاب (المخصص) میں اس لفظ کو موت کے نام کے طور پر استعمال کیا ہے۔

موت کے مشہور ناموں میں (المنیۃ) اور (الوفاۃ) شامل ہیں۔

المنون

ابن سيده نے اپنی کتاب المخصص میں زمانے کو منون کا نام دیا ہے کیوں کہ زمانہ انسان کی (منۃ) یعنی قوت کو لے جاتا ہے۔

الحِمام

حمَّ الشيء وأحمَّ یعنی قریب ہونا۔

الغولُ

عربوں میں موت کے لیے استعمال ہونے والا یہ انوکھا اور عجیب نام ہے۔

حَلاق

یہ بھی موت کا نام ہے جو صاحبین لغت کے نزدیک حالقہ سے معدول ہے۔

القاضية

یہ بھی موت کا نام ہے۔ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے قَضَى نَحبَهُ یعنی اس نے عمر پوری کر لی یا وہ مر گیا۔

الحَتفُ

یہ موت کے مشہور ناموں میں سے ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے لقي حتفه أو مات حتف أنفه یعنی (کسی ضرب یا قتل کے بغیر) اپنی موت مرنا یا طبعی موت مرنا۔

الخالج

قدیم عربی میں یہ موت کے نام کے طور پر استعمال ہوا۔ اس لیے کہ یہ خلج کا معنی کھینچ لینا ہے اور موت انسان کے اندر سے جان کھینچ لیتی ہے۔

عربی میں موت کو(أم قشعم) کا نام بھی دیا گیا۔ ابن سیدہ کہتے ہیں کہ موت کا نام (جباذ) بھی ہے۔ بعض کے نزدیک یہ جذب کو الٹا کر بنا ہے جب کہ دیگر کا کہنا ہے کہ یہ اصلی لفظ ہے جو اُلٹا کر نہیں بنا۔

ابن سیدہ نے اپنی کتاب المخصص میں ابن درید کے حوالے سے کہا ہے کہ (الكفت) اور (الجُداع) بھی موت کے نام ہیں۔

موت کے ناموں میں سے (المَنَى) بھی ہے۔

ھند

یہ ایک قبیلے کا نام ہے جس کے لوگ سخت جان سمجھے جاتے ہیں۔ لہذا دشمن کے ساتھ ان لوگوں کے معاملے کے پیش نظر اس قبیلے کا نام موت کے لیے استعمال ہونے لگا۔ عربی زبان کی “امهات الکتب” کے صاحبین کے مطابق اگر کوئی یہ کہے کہ “لقي هند الأحامس” تو اس کا معنی ہوگا وہ مر گیا۔

اگرچہ عربی زبان میں موت کے متعدد نام ہیں تاہم موت کی خبر دینے کے لیے صرف ایک لفظ ہے۔ یہ امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عربوں میں موت عظیم حرمت کی حامل ہے خواہ اس کی کوئی بھی صورت یا وجہ ہو۔ موت کی اطلاع یا خبر دینے کے لیے عربی میں (النعي) کا لفظ ہے۔ کہتے ہیں (تناعى القومُ في القتال) اور (نَعوا قتلاهم) ..

النعي کا معنی موت کی اطلاع یا خبر دینا ہے۔

موت کے لیے عربی زبان میں بیس سے زیادہ الفاظ آئے ہیں۔

بشکریہ العریبیہ ڈاٹ نیٹ

Comments

comments

Site Footer