حد سے گذرنے والے لوگ

سیدنا عمر ابن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا تو چور نے گڑ گڑاتے ہوئے عرض کیا ” اے امیر المؤمنین مجھ سے در گذر فرمائیے کہ یہ میری پہلی چوری ہے تو جواب میں امیر المؤمنین نے فرمایا کہ اللہ تعالی حلیم بھی ہے اور ستار بھی ہے اس لیے وہ اس وقت تک کسی کو رسوا نہیں کرتا جب تک کہ وہ بندہ حد سے نہ گذر جائے”

قمیض کا ایک خصیص بٹن بھی مہلت دیے بغیر نہیں گرتا بلکہ صاحبِ قمیض کو پہلے ڈھیلا ہو کر،پھر ایک طرف کے دھاگے نکل جانے جیسی اداؤں سے اپنے گر جانے کی پیشگی اطلاع دیتا رہتا ہے کجا کہ ایک با شعور انسان بغیر حد سے گذرے رسوا ہو جائے یا حد سے گذرے ہوئے اپنے سماج کی ہی کسی عوامی عدالت میں نشانِ عبرت بن جائے؟

بے شک اللہ تعالی حد سے گذرنے والوں کو پسند نہیں کرتا

Comments

comments

Site Footer