یہود و نصارٰی کبھی بھی مسلمانوں کے دوست نہیں

وَلَن تَرْضَىٰ عَنكَ الْيَهُودُ وَلَا النَّصَارَىٰ حَتَّىٰ تَتَّبِعَ مِلَّتَهُمْ ۗ قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَىٰ ۗ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم بَعْدَ الَّذِي جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ مَا لَكَ مِنَ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ – 2:120

And never will the Jews or the Christians approve of you until you follow their religion. Say, “Indeed, the guidance of Allah is the [only] guidance.” If you were to follow their desires after what has come to you of knowledge, you would have against Allah no protector or helper.
اور تم سے نہ تو یہودی کبھی خوش ہوں گے اور نہ عیسائی، یہاں تک کہ تم ان کے مذہب کی پیروی اختیار کرلو۔ (ان سے) کہہ دو کہ خدا کی ہدایت (یعنی دین اسلام) ہی ہدایت ہے۔ اور (اے پیغمبر) اگر تم اپنے پاس علم (یعنی وحی خدا) کے آ جانے پر بھی ان کی خواہشوں پر چلو گے تو تم کو (عذاب) خدا سے (بچانے والا) نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مددگار

ہمارے سیاست دان، افواج، بیوروکریسی، مقننہ، عدلی، میڈیا سے لے کر عام عوام تک نے یہود و نصارٰی کو خوش کرنے کی خاطر کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی. لیکن وہ راضی تبھی ہوتے ہیں جب آپ اپنا دین چھوڑ دیں.
یہاں ملت کا لفظ بھی میرے نزدیک قرآن کا اعجاز ہے. کیوں کہ آجکل باقاعدہ یہودی یا عیسائی مذہب اختیار کرنا ضروری نہیں. بس آپ کسی طرح انہیں یہ یقین دلا دیں کہ اسلام اور اسکے نظام کی آپکے نزدیک کوئی اہمیت نہیں.. اسکے بعد خواہ ملحد بن جائیں یا کفر کی حد تک پہنچے ہوئے لبرل، سیکولر، یا ہیومنسٹ. پھر دیکھیں آپکی کیسی آؤ بھگت ہوتی ہے

اور اس انتہائی جامع آیت کے مطابق اسلام سے روگردانی کی ہر صورت اپنے نفس کی پیروی ہے
اور نفس کی پیروی کی معراج کا نام لبرل ازم ہے.

Comments

comments

Site Footer