مصر : موسی علیہ السلام کے لیے پُھوٹنے والے چشموں کا مقام

قرآن کریم میں سورہ بقرہ اور سورہ الاعراف کی ایک ایک آیت میں ان بارہ چشموں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تاکہ ان کی قوم ان سے پانی پی سکے۔

مصر کے صوبے سیناء میں آثاریاتی تحقیق کے ادارے کے سربراہ اور ماہر آثاریات ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ موسی علیہ السلام کے چشموں کا مقام سیناء کے راستے میں واقع ہے اور اس علاقے کا نام “عيون موسى” ہی ہے۔ موسی علیہ السلام کی قوم سفر کر کے “بئرِ مر” کے علاقے میں آئی اور پھر وہاں سے “ایلیم” تک پہنچی۔ یہاں پر 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے اس لیے ان لوگوں نے یہاں پانی کے پاس ہی پڑاؤ ڈالا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “بئرِ مر” اس وقت عیون موسی کے علاقے سے 11 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اب اس کا پانی پینے کے لیے مناسب نہیں رہا۔ جہاں تک “ايليم” کے علاقے کا تعلق ہے تو وہ موجودہ عیون موسی کے علاقے میں ہی واقع ہے۔ یہاں پر ہی بنی اسرائیل کے لیے اللہ کے حکم سے 12 چشمے پھوٹے تھے۔

ڈاکٹر عبدالرحیم کے مطابق ان چشموں کی تعداد بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے برابر تھی۔ ہر قبیلہ اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے اور ان کی تعداد 12 ہی تھی۔ اتنی تعداد میں چشموں کا مقصد یہ ہی تھا کہ وہ سب کے سب ایک ساتھ پانی پر نہ ٹوٹ پڑیں۔

سورہ بقرہ میں آتا ہے : وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُواْ وَاشْرَبُواْ مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ.

سورہ الاعراف میں اللہ رب العزت کا ارشاد ہے : ‏وَقَطَّعْنَاهُمُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أَسْبَاطاً أُمَماً وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى إِذِ اسْتَسْقَاهُ قَوْمُهُ أَنِ اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُواْ مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـكِن كَانُواْ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ.

ڈاکٹر عبدالرحیم کا کہنا ہے کہ عالمی ماہر فلپ مائرسن کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ نہر سوئز سے لے کر عیون موسی تک کا علاقہ انتہائی بنجر اور خشک ہے۔ اس سے تصدیق ہوجاتی ہے کہ بنی اسرائیل کی قوم یہاں سے گزرتے ہوئے شدید پیاس کا شکار ہو چکی تھی جس کے بعد یہ چشمے ان کے واسطے پھوٹے۔ اس علاقے میں اب 4 چشمے واضح طور پر موجود ہیں۔ ان میں دو میں پانی ہے مگر وہ پینے کے لیے ٹھیک نہیں ، اس کی صفائی کی ضرورت ہے۔ ان میں ہر چشمے کا قطر 4 میٹر ہے۔

ڈاکٹر عبدالرحیم کے مطابق بقیہ چشمے مٹی کے ڈھیروں کے نتیجے میں گُم ہو گئے ہیں۔ ان کی دریافت کے لیے ارضیاتی سروے کی ضرورت ہے تاکہ مٹی کے نیچے چٹان کی سطح تک پہنچا جا سکے جہاں بقیہ چشمے پائے جاتے ہیں۔

Special Thanks: alarabiya.net

Comments

comments

Site Footer