اللہ تعالی اور موسی علیہ السلام کے پہلے کلام کا مقام!

on
in

مصر کے صوبے جنوبی سیناء کے شہر سینٹ کیتھرین میں واقع “جبلِ شریعہ” وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی نے اپنے رسول موسی علیہ السلام سے کلام کرتے ہوئے فرمایا تھا “إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى”.


آثارِ قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر عبد الرحيم ريحان (سیناء میں آثاریاتی تحقیقی مطالعے سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر جنرل) نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو باور کرایا کہ تمام مطالعوں سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسی مقام پر اللہ عزوجل نے تجلی فرمائی اور یہاں واقع علیق کے درخت کے پیچھے آگ روشن ہوئی تھی۔ یہ حضرت موسی علیہ السلام کا سیناء کا پہلا سفر تھا۔ یہاں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا تھا “إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى”۔ اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے دوسری مرتبہ اس پہاڑ پر آنے کے موقع پر تجلی فرمائی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اللہ تعالی کا اسی بارے میں ارشاد ہے “فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا”۔


ڈاکٹر عبدالرحیم کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے مصر کو بہت بڑا شرف بخشا ہے کہ یہاں مقدس وادی طوی میں جبلِ شریعہ واقع ہے۔ جس طرح “والتین والزیتون” سے بیت المقدس کو شرف بخشا گیا ، “طور سینین” درحقیقت سیناء ہے اور “والبلد الامین” مکہ مکرمہ ہے۔

(more…)