حرم مدنی : حُجرہ نبوی سے متعلق اہم ترین تفصیلات

on
in

مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں ہر جانب سے لوگ حجرہ نبوی میں مدفون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دو یارانِ خاص حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر سلام بھیجنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ حجرہ نبوی درحقیقت رسول کریم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا۔ اس حجرے کو اللہ رب االعزت نے یہ شرف بخشا کہ 11 ہجری میں اسی حجرے کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مبارک قبض فرمائی گئی۔

حرمین شریفین کے امور کے محقق محی الدین الہاشمی نے واضح کیا کہ جسد مبارک کی تدفین کے مقام کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں اختلاف رائے تھا جس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسی مقام پر تدفین کا فرمایا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک قبض فرمائی گئی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے خود نبی کریم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد سنا تھا کہ “ہر نبی کو اسی مقام پر دفنایا گیا جہاں اس کی وفات ہوئی”۔ اس کے بعد حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے لحد کھو دی اور جسد مبارک کو حجرہ نبوی میں جنوبی سمت دفن کیا گیا۔

الہاشمی نے بتایا کہ قبر اور دیوار کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک مغرب کی سمت ، پاؤں مبارک مشرق کی سمت اور چہرہ مبارک قبلہ رُخ ہے۔ سن 13 ہجری میں حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد انہیں نبی کریم کے پہلو میں دفن کیا گیا اور ان کا سر نبی کریم کے مونڈھوں کے قریب ہے۔

الہاشمی نے مزید بتایا کہ یہ حجرہ مٹی کی اینٹوں اور کھجور کے پتوں سے بنایا گیا تھا اور اس کی دیوار چھوٹی تھی۔ بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی دیوار کو پہلے سے اونچا کرا دیا۔ خلیفہ دوم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے ساتھیوں کے قریب دفن ہونا چاہتے ہیں۔ ام المومنین نے ایثار کرتے ہوئے اجازت دے دی ، اس سے قبل وہ خود وہاں دفن ہونے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

(more…)

مصر : موسی علیہ السلام کے لیے پُھوٹنے والے چشموں کا مقام

on
in

قرآن کریم میں سورہ بقرہ اور سورہ الاعراف کی ایک ایک آیت میں ان بارہ چشموں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تاکہ ان کی قوم ان سے پانی پی سکے۔

مصر کے صوبے سیناء میں آثاریاتی تحقیق کے ادارے کے سربراہ اور ماہر آثاریات ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ موسی علیہ السلام کے چشموں کا مقام سیناء کے راستے میں واقع ہے اور اس علاقے کا نام “عيون موسى” ہی ہے۔ موسی علیہ السلام کی قوم سفر کر کے “بئرِ مر” کے علاقے میں آئی اور پھر وہاں سے “ایلیم” تک پہنچی۔ یہاں پر 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے اس لیے ان لوگوں نے یہاں پانی کے پاس ہی پڑاؤ ڈالا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “بئرِ مر” اس وقت عیون موسی کے علاقے سے 11 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اب اس کا پانی پینے کے لیے مناسب نہیں رہا۔ جہاں تک “ايليم” کے علاقے کا تعلق ہے تو وہ موجودہ عیون موسی کے علاقے میں ہی واقع ہے۔ یہاں پر ہی بنی اسرائیل کے لیے اللہ کے حکم سے 12 چشمے پھوٹے تھے۔

ڈاکٹر عبدالرحیم کے مطابق ان چشموں کی تعداد بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے برابر تھی۔ ہر قبیلہ اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے اور ان کی تعداد 12 ہی تھی۔ اتنی تعداد میں چشموں کا مقصد یہ ہی تھا کہ وہ سب کے سب ایک ساتھ پانی پر نہ ٹوٹ پڑیں۔

(more…)

پانچ ہزار سال سے جاری زم زم چشمے کی کہانی

on
in

خانہ کعبہ سے صرف 20 میٹر دور زمزم کا کنواں کرہ ارض پر پانی کا سب سے پرانا چشمہ قرار دیا جاتا ہے جس کی عمر پانچ ہزار سال سے زاید ہوچکی ہے۔ جیسا کہ تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ زم زم کا چشمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیا رگڑنے کی جگہ سے پھوٹا۔

آج تک کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ کوئی چشمہ ساٹھ ستر سال سے زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہتا مگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو آج سے پانچ ہزار سال قبل اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیوی ھاجرہ اور بیٹے اسماعیل کو مکہ کی بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ دیں۔

پانی کا یہ کنواں تیس میٹر گہرا ہے جس میں پانی کی سطح زیادہ سے زیادہ 18.5 لیٹر اور کم سے کم 11 لیٹر بتائی جاتی ہے۔ جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے یہاں پر اللہ کے پہلے گھرکی بنیاد رکھی تو یہ چشمہ اس وقت موجود تھا۔

(more…)

جبلِ احد کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے ہوں گے

on
in

سعودی سرکاری نیوز ایجنسی  نے مدینہ منورہ میں مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل 200 مقامات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جن کا سیرت نبوی سے گہرا تعلق ہے۔ سال 2017 کے لیے اسلامی سیاحت کا دارالحکومت قرار دیے جانے والے شہر کے ان مقامات میں تاریخی مساجد اور نمایاں یادگاریں شامل ہیں جو مسلمانوں کے دلوں اور ان کے ذہنوں میں کئی زمانوں سے موجود ہیں اور وہ ان کی زیارت کا اشتیاق رکھتے ہیں۔

جبلِ احد کو سیرتِ نبوی سے متعلق اہم ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کئی واقعات کے سبب منفرد مقام اور عظمت کا پہلو رکھتا ہے جن میں 3 ہجری میں پیش آنے والا غزوہ احد نمایاں ترین ہے۔

مدینہ منورہ آنے والے زائرین کی اکثریت “جبلِ احد” کی زیارت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہاں شہداءِ احد کا قبرستان بھی ہے جس میں معرکہ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے 70 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے جسدِ خاکی مدفون ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں “سید الشہداء اسکوائر” کا ترقیاتی کام بھی جاری ہے۔ مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز کے زیرِ سرپرستی اس منصوبے کا مقصد اس مقام کی زیارت کرنے والے مقامی اور بیرونی زائرین کو پیش کی جانے والی خدمات بہتر بنانا ہے۔

(more…)