اسلام خنزیر کو کیوں حرام قرار دیتا ہے، حالانکہ وہ بھی اللہ کی ایک مخلوق ہے؟ اور اگر خنزیر حرام ہے تو پھر اللہ تعالی نے خنزیر کو کیوں پیدا کیا ہے؟

on
in

الحمد للہ:

اول:

ہمارے پروردگار نے قطعی طور پر خنزیر کا گوشت کھانا حرام قرار دیا ہے، فرمانِ باری تعالی ہے:
( قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّماً عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلا أَنْ يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَماً مَسْفُوحاً أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ )
ترجمہ: آپ کہہ دیں: جو وحی میری طرف آئی ہے اس میں کوئی ایسی چیز میں نہیں پاتا جو کھانے والے پر حرام کی گئی ہو الا یہ کہ وہ مردار ہو یا  بہایا ہوا خون ہو، یا خنزیر کا گوشت ہو کیونکہ وہ نا پاک ہے [الأنعام:145]

اللہ کی ہم سب پر یہ رحمت اور خیر خواہی ہے کہ اس نے پاکیزہ چیزوں  کو حلال اور خبیث چیزوں  کو حرام کیا ہےجیسا کہ فرمایا:
( وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ )
ترجمہ: اور وہ نبی ان کے لئے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور گندی چیزوں  کو حرام کرتا ہے [الأعراف: 157]

تو ہمیں لمحہ بھر بھی اس میں شک نہیں ہے کہ خنزیر خبیث اور ناگوار جانور ہے، اس کا گوشت کھانا انسان کیلیے نقصان دہ ہے، مزید بر آں  خنزیر گندگی اور غلاظت  کھاتا ہے، جس کی وجہ سے سلیم الفطرت انسان  اسے کھانے کیلیے تیار نہیں ہوتا اسے کھانا اس کی طبیعت پر بارِ گراں  ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے دی ہوئی فطرت سے متصادم بات ہے۔

دوم:

خنزیر کا گوشت کھانے سے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، ان منفی اثرات میں سے متعدد کو جدید طبی علوم نے بھی تسلیم کیا ہے، جن میں سے کچھ یہ ہیں:

خنزیر کے گوشت کا شمار ایسے حیوانی گوشت میں ہوتا ہے جس میں کولیسٹرول کی مقدار بہت زیادہ پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے انسانی خون میں بھی کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کہ شریانوں کے بند ہونے کا موجب بنتی ہے۔ اسی طرح خنزیر کے گوشت میں موجود فیٹی ایسڈ  کی اجزائے ترکیبی بھی  دیگر غذاؤں میں موجود فیٹی ایسڈز  کی اجزائے ترکیبی سے مختلف ہے، جس کی وجہ سے دیگر فیٹی ایسڈز کی بہ نسبت خنزیر کے گوشت میں پایا جانے والا  کولیسٹرول  خون میں جلد جذب ہو جاتا ہے اور خون میں اس کی مقدار بڑھا دیتا ہے ۔ خنزیر کا گوشت اور چربی دونوں ہی  بڑی آنت، مقعد، پروسٹیٹ، چھاتی اور خون کے کینسر کا باعث بنتے ہیں۔ خنزیر کا گوشت اور چربی دونوں ہی   موٹاپے اور دیگر پیچیدہ امراض کا باعث بنتے ہیں۔ خنزیر کا گوشت خارش، الرجی اور معدے کے السر  کا باعث بنتا ہے۔ خنزیر کا گوشت کھانے سے پھیپھڑوں میں ایسے انفیکشنز پیدا ہوتے ہیں  جن کی وجہ ٹیپ ورم [کیڑوں کی ایک قسم]اور پھیپھڑوں میں پائے جانے والے کیڑے ہیں، اسی طرح پھیپھڑوں کی جرثومی امراض بھی پیدا ہوتی ہیں۔ خنزیر کا گوشت کھانے  کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ  خنزیر کا گوشت ٹیپ ورم کیڑوں کی ایک خاص قسم پر مشتمل ہوتا ہے جسے [Teenia Solium] کہتے ہیں، اس کی لمبائی 2 سے 3 میٹر تک ہوتی ہے، خنزیر کا گوشت انسانی جسم میں اس کیڑے کے انڈوں کی نشو و نما کرتا ہے؛  اگر یہ انڈے دماغ میں پرورش پائیں تو انسان کو  ہسٹیریا اور پاگل پن  کا مریض بنا دیتا ہے ، اور اگر  دل کے کسی حصے میں نشو و نما پائیں تو پھر یہ بلند فشار خون [بلڈ پریشر ]، اور دل کے دورے کا باعث بنتا ہے، اسی طرح خنزیر کے گوشت میں  دیگر کیڑے بھی پائے جاتے ہیں جن میں   خنزیری کیڑا [Trichinosis worm] بھی ہے جو کہ گوشت کے اچھی طرح پکنے سے بھی نہیں مرتا، یہ کیڑا اگر جسم میں نشو و نما پائے تو فالج اور [Skin rashes] کا باعث بنتا ہے۔ طبی ماہرین بڑی تاکید کے ساتھ یہ کہتے ہیں کہ ٹیپ ورم ان خطرناک امراض میں سے ایک ہے جو کہ خنزیر کا گوشت کھانے سے پیدا ہوتی ہیں   یہ کیڑاانسان کی چھوٹی آنت میں پرورش پاتا ہے، یہ چند مہینوں میں بالغ کیڑا بن جاتا ہے اس کا جسم تقریباً ایک ہزار حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، اس کی لمبائی 4 سے 10 میٹر تک لمبی ہو سکتی ہے، یہ متاثرہ شخص کی آنتوں میں  رہتا ہے اور اس کے انڈے فضلے کے ساتھ خارج ہوتے رہتے ہیں، جس وقت خنزیر اس کے انڈوں کو  نگل کر ہضم کر جاتا ہے تو یہ خنزیر کی بافتوں اور پٹھوں میں  لاروے کی شکل اختیار کر کے داخل ہو جاتا ہے، اس لاروے میں سیال مادہ اور ٹیپ ورم کا سر ہوتا ہے۔ اور جب انسان اس لاروے سے متاثر خنزیر کا گوشت کھاتا ہے تو وہ انسانی آنتوں میں پہنچ کر مکمل کیڑا بن جاتا ہے، یہ کیڑے انسانی جسم کی کمزوری کا باعث بھی بنتے ہیں، جس کی وجہ سے وٹامن  (12بی) کی کمی سامنے آتی ہے، جو کہ خون میں  خاص نوعیت کی کمی کا باعث بنتا ہے، بسا اوقات اس کی وجہ سے اعصابی نظام  میں بھی مسائل جنم لیتے ہیں ، یہ بھی ممکن ہے کہ بعض  حالات میں یہ لاروے انسانی دماغ تک پہنچ کر تشنج کا باعث بنیں، یا ان سے دماغ میں بلڈ پریشر کی سطح بھی بلند ہو سکتی ہے، اس کے بعد کے اثرات میں شدید نوعیت کا سر درد، اعضا کا سکڑنا اور فالج بھی  شامل  ہے۔ اگر خنزیر کا گوشت اچھی طرح پکا ہوا نہ ہو تو  اس کی وجہ سے خنزیری کیڑے [Trichinosis worm] بھی پیدا ہو جاتے ہیں، اور جب یہ طفیلی کیڑے  چھوتی آنت میں پہنچتے ہیں تو 4 سے 5 دن میں ان سے بہت سارے لاروے  خارج ہوتے ہیں جو کہ  آنتوں کی دیواروں میں داخل ہو کر خون میں شامل ہوجاتے ہیں اور وہاں سے جسم کی اکثر بافتوں کا رخ کرتے ہیں، یہ لاروے  پٹھوں میں سے گزرتے ہوئے وہاں پر اپنی مخصوص تھیلیاں بناتے جاتے ہیں، ایسا مریض پٹھوں میں خوب درد محسوس کرتا ہے، بسا اوقات یہ مرض بڑھ کر گردن توڑ بخار یا دماغی سوزش کا باعث بھی بن جاتا ہے، اسی طرح یہ  دل، پھیپھڑوں، گردوں کے پٹھوں اور اسی طرح اعصابی نظام  کی سوزش کا باعث بھی بنتا ہے، یہ بیماری کبھی کبھار  موت کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

اور یہ بات معروف ہے کہ کچھ انسانی بیماریاں ایسی ہیں کہ حیوانوں میں سے سوائے خنزیر کے کوئی جانور ان میں انسان کا ساجھی نہیں ہے ، جیسے کہ  گٹھیا اور جوڑوں کا درد، اللہ تعالی کا فرمان سچا ہے کہ: {إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ}  اس نے تو صرف تم پر مردار خون اور خنزیر کا گوشت حرام کیا ہے اور ہر وہ چیز بھی جو غیر اللہ کے نام  سے مشہور کر دی جائے۔ پھر جو شخص ایسی چیز کھانے پر مجبور ہو جائے در آں  حالیکہ وہ نہ تو قانون شکنی کرنے والا ہو اور نہ ضرورت  سے زیادہ کھانے والا ہو، تو اس پر کچھ گناہ نہیں۔ (کیونکہ) اللہ تعالی یقیناً بڑا بخشنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ [البقرة: 173]

تو یہ خنزیر کا گوشت کھانے کے چند نقصانات ہیں ، اور امید ہے کہ ان نقصانات کو جاننے کے بعد اب آپ کو خنزیر کے حرام ہونے میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔

ہم یہ بھی امید کرتے ہیں کہ یہ آپ کا صحیح اور حق دین کی پہچان کیلیے پہلا قدم ہوگا، اس لیے آپ اس بارے میں مزید تلاش کریں، دیکھیں، پڑھیں اور عدل و انصاف کے ساتھ غور و فکر کریں، تلاشِ حق اور اتباعِ حق کیلیے یکسو ہو کر اس کی جستجو میں لگ جائیں، میں اللہ تعالی سے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی آپ کی ہر اس کام کیلیے رہنمائی فرمائے جس میں آپ کیلیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہو۔

لیکن  اگر ہمیں خنزیر کا گوشت کھانے  کا کوئی ایک منفی پہلو یا نقصان بھی معلوم نہ ہو تو تب بھی ہمارا خنزیر کے بارے میں ایمان یہی ہو گا کہ وہ حرام ہے، خنزیر کا گوشت نہ کھانے سے ہمارا ایمان بالکل کمزور نہیں ہو گا۔

آپ یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ آدم علیہ السلام کو جنت سے  صرف اسی لیے نکالا گیا تھا کہ انہوں نے اللہ تعالی کی طرف سے منع کردہ  درخت  کا پھل کھا لیا تھا ، ہمیں اس درخت کی حرمت کے متعلق کوئی وجہ معلوم نہیں ، اور نہ ہی آدم علیہ السلام کو اس درخت سے ممانعت کی وجہ معلوم کرنے کی کوئی ضرورت تھی ، بلکہ اللہ تعالی کا منع کر دینا ہی ان کیلیے کافی تھا، بالکل اسی طرح ہمارے لیے اور دیگر تمام مومنوں کیلیے اتنا ہی کافی ہے کہ اللہ تعالی نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

خنزیر کا گوشت کھانے پر مرتب ہونے والے نقصانات کے متعلق مزید جاننے کیلیے آپ اسلامی طب کے متعلق منعقد ہونے والی چوتھی عالمی کانفرنس  کے مقالہ جات مطبوعہ کویت (صفحہ: 731اور اس کے بعد والا حصہ) اسی طرح لؤلؤہ بنت صالح کی عربی کتاب(الوقاية الصحية في ضوء الكتاب والسنة) صفحہ: 635 اور اس کے بعد والے  حصے کا مطالعہ کریں۔

ہم اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں  اور آپ کی توجہ ایک اور سوال کی طرف مبذول کرتے ہیں  کہ :

کیا خنزیر آپ کے عہد قدیم میں حرام نہیں ہے؟ جو کہ آپ کی کتاب مقدس کا ایک حصہ ہے:

جیسے کہ درج ذیل اقتباسات سے عیاں ہے:

” 3 تو کسی گھنونی چیز کو مت کھانا ۔۔۔اور سور تمہارے لیے اِس سبب سے ناپاک ہے کہ اُسکے پاؤں تو چِرے ہوئے ہیں پر و ہ جگالی نہیں کرتا ۔ تُم نہ تو اُنکا گوشت کھانا اور نہ اُنکی لاش کو ہاتھ لگانا ۔ ” باب: استثنا،  14/ 3-8، اسی طرح کی عبارت باب: احبار،  11/1-8 میں بھی موجود ہے۔

یہودیوں کے ہاں خنزیر حرام ہونے کی دلیل ہمیں پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اگر آپ کو شک گزرے تو یہودیوں سے آپ پوچھ سکتے ہیں وہ آپ کو بتلا دیں گے، لیکن ہمیں آپ کو آپ کی کتاب میں ذکر شدہ کچھ چیزوں کے بارے میں تنبیہ کرنا  ضروری محسوس ہوتا ہے  ۔

جیسا کہ کیا عہد نامہ جدید میں یہ نہیں  ہے کہ تورات کے تمام احکام تمہارے لیے  بھی ثابت ہیں، ان میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آ سکتی، کیا اس میں یہ نہیں ہے کہ مسیح  نے فرمایا تھا:
” یہ نہ سَمَجھو کہ مَیں توریت یا نبِیوں کی کتابوں کو منسُوخ کرنے آیا ہُوں۔ منسُوخ کرنے نہِیں بلکہ پُورا کرنے آیا ہُوں۔کیونکہ میں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمِین ٹل نہ جائیں ایک نُقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگِز نہ ٹلے گا جب تک سب کُچھ پُورا نہ ہو جائے۔ ” متی: 5/17-18

اس لیے ہمیں اس نص کے بعد عہد جدید میں خنزیر کیلیے کوئی نیا حکم تلاش کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم پھر بھی ہم آپ کو ایک اور نص دیتے ہیں جس میں خنزیر کے نجس ہونے اور خبیث ہونے کا قطعی ثبوت ہے:
” اور وہاں پہاڑ پر سوروں کا ایک بڑا غول چررہا تھا۔

12 پَس اُنہوں نے اُس کی مِنّت کر کے کہا کہ ہم کو اُن سوروں میں بھیج دے تاکہ ہم اُن میں داخل ہوں۔

13 پَس اُس نے اُن کو اِجازت دی اور ناپاک رُوحیں نِکل کر سوروں میں داخِل ہوگئِیں اور وہ غول جو کوئی دوہزار کا تھا کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑا اور جِھیل میں ڈُوب مرا۔ ”
انجیل مرقس 5/11-13

خنزیر کے گندے اور ناگوار ہونے کے متعلق مزید نصوص دیکھیں: [انجیل  متى : 67 ،اسی طرح پطرس 2:  2/ 22ایسے ہی دیکھیں: لوقا 15/11-15 ]ان میں خنزیر پالنے والوں کی بھی مذمت ہے۔

اب اس کے بارے میں شاید آپ  یہ کہنا چاہیں گے کہ یہ نصوص منسوخ ہیں؛ کیونکہ پطرس نے یہ کہا ہے اور بولس نے وہ کہا ہے؟!!

کلام اللہ ایسے ہی بدلا جاتا ہے! تورات کو اسی طرح منسوخ کیا جاتا ہے، بلکہ مسیح کا کلام بھی منسوخ کر دیا جاتا ہے جس میں تمہارے لیے تاکید کے ساتھ کہا گیا تھا کہ تورات  کے احکامات تمہارے لیے ایسے ہی ثابت ہیں جس طرح زمین اور آسمان ثابت ہیں، کیا یہ سب کچھ بولس یا پطرس کی بات سے منسوخ کر دیا جاتا ہے؟!!

چلیں اگر مان بھی لیں کہ ان کی بات سچی ہے اور حقیقت میں خنزیر کی حرمت منسوخ ہو گئی ، تو پھر اسلام میں خنزیر کی حرمت پر تشویش کیوں کرتے ہو، حالانکہ یہ پہلے تمہارے ہاں بھی حرام ہی تھا؟!

سوم:

آپ کا یہ کہنا کہ: اگر اس کا کھانا حرام ہے تو پھر اللہ تعالی نے خنزیر کو حرام کیوں قرار دیا ہے؟ اس سوال سے تو لگتا ہے کہ آپ سنجیدہ نہیں ہیں! کیونکہ اگر یہ سوال سنجیدہ ہو تو پھر ہم آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اللہ تعالی نے فلاں فلاں نقصان دہ یا گندی چیزیں کیوں پیدا  کی ہیں، بلکہ ہم آپ سے یہ پوچھتے ہیں کہ اللہ تعالی نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟

کیا یہ خالق کا حق نہیں ہے کہ وہ اپنی مخلوق کو جو چاہے حکم دے، انہیں جس چیز کا چاہے آرڈر جاری کرے، اس کے احکامات پر کوئی نظر ثانی کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا، اور نہ ہی اس کے حکم کو کوئی بدل سکتا ہے۔

کیا اپنے خالق کی بندگی کرنے والی مخلوق کی یہ ذمہ داری نہیں بنتی کہ اسے پروردگار کی جانب سے جو بھی حکم ملے  اس کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دے؟

(ممکن ہے کہ آپ کو اس کا ذائقہ اچھا لگے، آپ اسے کھانے کی چاہت بھی کرتے ہوں، آس پاس کے لوگ اسے کھا پی رہے ہوں، لیکن کیا جنت کا اتنا بھی حق نہیں ہے کہ آپ کسی من چاہی  چیز کو جنت کیلیے قربان کر دیں!؟)

واللہ اعلم.

(more…)

حرم مدنی : حُجرہ نبوی سے متعلق اہم ترین تفصیلات

on
in

مدینہ منورہ کی مسجد نبوی میں ہر جانب سے لوگ حجرہ نبوی میں مدفون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے دو یارانِ خاص حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر سلام بھیجنے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ حجرہ نبوی درحقیقت رسول کریم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا۔ اس حجرے کو اللہ رب االعزت نے یہ شرف بخشا کہ 11 ہجری میں اسی حجرے کے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روحِ مبارک قبض فرمائی گئی۔

حرمین شریفین کے امور کے محقق محی الدین الہاشمی نے واضح کیا کہ جسد مبارک کی تدفین کے مقام کے حوالے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین میں اختلاف رائے تھا جس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسی مقام پر تدفین کا فرمایا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح مبارک قبض فرمائی گئی تھی۔ اس لیے کہ انہوں نے خود نبی کریم کی زبان مبارک سے یہ ارشاد سنا تھا کہ “ہر نبی کو اسی مقام پر دفنایا گیا جہاں اس کی وفات ہوئی”۔ اس کے بعد حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ نے لحد کھو دی اور جسد مبارک کو حجرہ نبوی میں جنوبی سمت دفن کیا گیا۔

الہاشمی نے بتایا کہ قبر اور دیوار کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر مبارک مغرب کی سمت ، پاؤں مبارک مشرق کی سمت اور چہرہ مبارک قبلہ رُخ ہے۔ سن 13 ہجری میں حضرت ابو بکر کی وفات کے بعد انہیں نبی کریم کے پہلو میں دفن کیا گیا اور ان کا سر نبی کریم کے مونڈھوں کے قریب ہے۔

الہاشمی نے مزید بتایا کہ یہ حجرہ مٹی کی اینٹوں اور کھجور کے پتوں سے بنایا گیا تھا اور اس کی دیوار چھوٹی تھی۔ بعد ازاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی دیوار کو پہلے سے اونچا کرا دیا۔ خلیفہ دوم کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے ساتھیوں کے قریب دفن ہونا چاہتے ہیں۔ ام المومنین نے ایثار کرتے ہوئے اجازت دے دی ، اس سے قبل وہ خود وہاں دفن ہونے کا ارادہ رکھتی تھیں۔

(more…)

مصر : موسی علیہ السلام کے لیے پُھوٹنے والے چشموں کا مقام

on
in

قرآن کریم میں سورہ بقرہ اور سورہ الاعراف کی ایک ایک آیت میں ان بارہ چشموں کا ذکر کیا گیا ہے جو اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے لیے جاری فرمائے تھے تاکہ ان کی قوم ان سے پانی پی سکے۔

مصر کے صوبے سیناء میں آثاریاتی تحقیق کے ادارے کے سربراہ اور ماہر آثاریات ڈاکٹر عبدالرحيم ريحان نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ موسی علیہ السلام کے چشموں کا مقام سیناء کے راستے میں واقع ہے اور اس علاقے کا نام “عيون موسى” ہی ہے۔ موسی علیہ السلام کی قوم سفر کر کے “بئرِ مر” کے علاقے میں آئی اور پھر وہاں سے “ایلیم” تک پہنچی۔ یہاں پر 12 چشمے اور کھجور کے 70 درخت تھے اس لیے ان لوگوں نے یہاں پانی کے پاس ہی پڑاؤ ڈالا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ “بئرِ مر” اس وقت عیون موسی کے علاقے سے 11 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ اب اس کا پانی پینے کے لیے مناسب نہیں رہا۔ جہاں تک “ايليم” کے علاقے کا تعلق ہے تو وہ موجودہ عیون موسی کے علاقے میں ہی واقع ہے۔ یہاں پر ہی بنی اسرائیل کے لیے اللہ کے حکم سے 12 چشمے پھوٹے تھے۔

ڈاکٹر عبدالرحیم کے مطابق ان چشموں کی تعداد بنی اسرائیل کے قبیلوں کی تعداد کے برابر تھی۔ ہر قبیلہ اللہ کے نبی یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کی نسل سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی تھے اور ان کی تعداد 12 ہی تھی۔ اتنی تعداد میں چشموں کا مقصد یہ ہی تھا کہ وہ سب کے سب ایک ساتھ پانی پر نہ ٹوٹ پڑیں۔

(more…)

پانچ ہزار سال سے جاری زم زم چشمے کی کہانی

on
in

خانہ کعبہ سے صرف 20 میٹر دور زمزم کا کنواں کرہ ارض پر پانی کا سب سے پرانا چشمہ قرار دیا جاتا ہے جس کی عمر پانچ ہزار سال سے زاید ہوچکی ہے۔ جیسا کہ تاریخی روایات میں بیان کیا جاتا ہے کہ زم زم کا چشمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ایڑیا رگڑنے کی جگہ سے پھوٹا۔

آج تک کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ کوئی چشمہ ساٹھ ستر سال سے زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رہتا مگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ کو آج سے پانچ ہزار سال قبل اللہ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیوی ھاجرہ اور بیٹے اسماعیل کو مکہ کی بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ دیں۔

پانی کا یہ کنواں تیس میٹر گہرا ہے جس میں پانی کی سطح زیادہ سے زیادہ 18.5 لیٹر اور کم سے کم 11 لیٹر بتائی جاتی ہے۔ جب حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے یہاں پر اللہ کے پہلے گھرکی بنیاد رکھی تو یہ چشمہ اس وقت موجود تھا۔

(more…)

فتح مکہ پر اللہ کے نبی کس دروازے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے؟

on
in

فتحِ مکہ کا واقعہ سیرت نبوی کی تاریخ کے اہم ترین واقعات میں سے ہے۔ اس موقع پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ جو مسجد حرام میں داخل ہو گیا وہ امان پا گیا، جو ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو گیا وہ امان پا گیا اور جس کسی نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا وہ امان پا گیا۔

مگر خود رسول کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے روز کس دروازے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے؟

مکہ مکرمہ میں ام القری یونی ورسٹی میں شعبہ تاریخ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد بن عبداللہ آل زید نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ “اللہ کے نبی جب طوی کے کنوئیں پر پہنچے تو اپنی فوج کو تقسیم کر دیا۔ اس کے بعد مکہ مکرمہ کے بالائی علاقے میں کداء کے پہاڑی راستے (گھاٹی) سے شہر میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر آپ خشیتِ الہی کے ساتھ تواضع اور مسرت کی حالت میں تھے (جب کہ ہجرت والے روز آپ مکہ مکرمہ کے نشیبی علاقے سے کمزوری اور بے بسی کی حالت میں شہر سے نکلے تھے)۔ اس کے بعد آپ ‘باب السلام’ سے مسجد حرام میں داخل ہوئے اور قریش نے ہتھیار ڈال دیے اور امان پا لی”۔

کَداء (زبر کے ساتھ) کی گھاٹی کو المعلاہ قبرستان سے منسوب کر کے ‘قبرستان کی گھاٹی’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں تک کُداء (پیش کے ساتھ) یا کُدی کی گھاٹی کا تعلق ہے تو یہ وہ گھاٹی ہے جس کی سمت سے حضرت خالد بن الولید رضی اللہ عنہ نے بعض کفارِ قریش کے خلاف لڑائی کی تھی۔

تاریخ شاہد ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے قبل فیصلہ کر لیا تھا کہ اس شہر کی فتح پر امن طور پر ہو.. پس اللہ عز وجل نے اپنے نبی کی نصرت فرمائی، شہر فتح ہوا اور اس کے اکثر لوگوں کو معاف کر دیا گیا۔

(more…)

کنجر کلچر

on
in

لڑکے کا لڑکی کو بھگا کر شادی کرنا

جناب جسٹس شوکت عزیز صدیقی صاحب نے ایک کیس کی سماعت کے دوران بجا فرمایا کہ لوگ مجھے مسجد کا خطیب کہیں یا مولوی مگر میں ایسے لبرلز سے سوال کرتا ہوں کہ وہ معاشرے کو کدھر لے جا رہے ہیں۔ یہ ریمارکس  انھوں نے ایک ایسے کیس میں دیے جس میں لڑکا ایک لڑکی کو بھگا کر لایا اور الٹا لڑکی کے باپ کے خلاف درخواست بھی فائل کر دی کہ انھیں اس سے جان کا خطرہ ہے اور پولیس پروٹیکشن نہیں دے رہی جس پر فاضل جسٹس نے لڑکے سے پوچھا کہ اسے شرم نہیں آئی کہ وہ کسی کی بیٹی کو بھگا کر بھی لایا ہے اورلڑکی کے والدین کو ذلیل بھی کر رہا ہے اور لڑکے سے جب پوچھا گیا کہ اسکی اپنی کتنی بہنیں ہیں تو اس نے جواب دیا کہ تین جس پر فاضل جج صاحب نے لڑکے سے کہا کہ کیا وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اسکی تینوں بہنیں بھی تیں لڑکوں سے گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں جس پر لڑکے نے اپنا جواز پیش کیا کہ اس نے شرعی حق استمعال کیا ہے۔ جس پہ فاضل جج صاحب نے لڑکے سے پوچھا کہ وہ دن میں کتنی نمازیں پڑھتا ہے جس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکا جو کہ اصل شرعیت ہے۔ افسوس اس بات کا کہ اسلام میں ولی کے بغیر نکاح کی اجازت نہ ہونے میں بھی ایک حکمت پنہاں ہے مگر آج لبلرل اور سیکولر بد بختوں نے اس اسلامی ملک کو بے حیا معاشرہ بنانے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ سرکاری پالیسیاں شرمین عبید اور بےلگام میڈیا کے ہاتھ میں چلی گئی ہیں۔ آج اگر ان کا راستہ نہ روکا گیا تو اسلامی جمہوریہ پاکستان مغرب کو بھی خدا نخواستہ پیچھے چھوڑ جائے گا۔ آج دیسی لبرلز غلبہ کر تے جارہے ہیں جبکہ اسلامی روایات دم توڑتی جارہی ہیں جس کے کے ذمہ دار ہم سب ہیں کیونکہ ہم لبرلز کے سامنے احساس کمتری کا شکار ہوتے جا رہے ہیں جو معاشرے اورنئی نسل کے لیے ایک زہر قاتل ہے۔ہمارے سامنے روزانہ سڑکوں کنارے سر عام جسم فروشی ہوتی ہے، ہمارے نوجوان لو تھائی جینز پہن کر نیم برہنہ حالت میں موٹر سائیکلز چلاتے ہیں۔ سکولوں ، کالجوں کے لڑکےبالوں کے وہ سٹائل بنا کر پھرتے ہیں جن کو ہمارے زمانے میں ہمارے بزرگ ’’کنجر سٹائل‘‘ کہا کرتے تھے اور اب یہ عام رواج ہے۔ ہر گلی میں دو دو بیوٹی سیلون کھل گئے ہیں جس میں لڑکے میک اپ کرواتے ہیں۔ یہ قوم کی نئی نسل کیا لڑے گی اپنی زمین کے لئے جو نائی کی دکان پر جا کر نئے سٹائل کے بال کٹوانےمیں مگن ہے اور ہیجڑوں کی طرح سرخی پاؤڈر لگا کر بننے سنورنے میں مگن ہے۔۔۔!!سوشل میڈیا کی دنیا میں کوئی پرنس ہے تو کوئی کنگ، چارمنگ ہے تو کوئی مون، ارے کوئی انسان بھی ہے۔۔۔؟؟ سارا سارا دن لڑکیوں سے باتیں کرتے رہتے ہیں۔ ان لڑکیوں کے والدین پر مجھے حیرت ہوتی ہے جو اتنے بے خبر ہیں اپنی بچیوں کی جانب سے۔ کوتاہیاں اپنی ہوتی ہیں پھر الزام کمپیوٹر پر، موبائل فونز پر اور انٹر نیٹ پر دھر دیتے ہیں۔ وہ عورتیں جو باہر نکلتی ہیں ان کو بنتے سنورتے یہ سوچنا چاہئے کہ باہر کی جو دنیا ہے وہ اندھی نہیں ہے، ان کی آنکھیں ہیں اور مفت کی مے قاضی بھی نہیں چھوڑا کرتا۔ عورت تو پھر مرد کی کمزوری ہے وہ اس سہولت سے فائدہ کیونکر نہ اٹھائے۔ خدا کا خوف ختم اور پیسے کے چھننے کا خوف بڑا ہو گیا ہے۔ لوگوں کو یہ فکر نہیں رہی کہ ان کے گھر کی بچیاں نئے نئے موبائل فونز کہاں سے لا رہی ہیں، وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان کی بچیوں اور بچوں کے دوست کتنے اچھے ہیں جو ان کو اتنے مہنگے تحائف دیتے ہیں۔ ایک لمحے کو اگر وہ یہ سوچیں کہ جو موبائل ان کی بیٹی نے اٹھایا ہےاس کی قیمت نقد نہیں بلکہ جسمانی مشقت سےچکائی ہے تو شرم سے ڈوب مریں لیکن جہاں اقدار پر پیسہ حاوی ہو جائے وہاں غیرت پر بے غیرتی حاوی ہو جاتی ہے اور یہی ہو رہا ہے اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک ہم اس روش کو ترک نہیں کریں…!!یہ جھوٹ ہے کی آج کا انسان عورت کی آزادی چاہتا ہے ، بلکہ سچ بات تو یہ ہے کی وہ عورت تک پہنچنے کی آزادی چاہتا ہے۔

(more…)

جبلِ احد کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے ہوں گے

on
in

سعودی سرکاری نیوز ایجنسی  نے مدینہ منورہ میں مذہبی اور تاریخی اہمیت کے حامل 200 مقامات کے حوالے سے ایک رپورٹ جاری کی ہے جن کا سیرت نبوی سے گہرا تعلق ہے۔ سال 2017 کے لیے اسلامی سیاحت کا دارالحکومت قرار دیے جانے والے شہر کے ان مقامات میں تاریخی مساجد اور نمایاں یادگاریں شامل ہیں جو مسلمانوں کے دلوں اور ان کے ذہنوں میں کئی زمانوں سے موجود ہیں اور وہ ان کی زیارت کا اشتیاق رکھتے ہیں۔

جبلِ احد کو سیرتِ نبوی سے متعلق اہم ترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کئی واقعات کے سبب منفرد مقام اور عظمت کا پہلو رکھتا ہے جن میں 3 ہجری میں پیش آنے والا غزوہ احد نمایاں ترین ہے۔

مدینہ منورہ آنے والے زائرین کی اکثریت “جبلِ احد” کی زیارت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہاں شہداءِ احد کا قبرستان بھی ہے جس میں معرکہ احد میں جام شہادت نوش کرنے والے 70 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے جسدِ خاکی مدفون ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں “سید الشہداء اسکوائر” کا ترقیاتی کام بھی جاری ہے۔ مدینہ منورہ کے گورنر شہزادہ فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز کے زیرِ سرپرستی اس منصوبے کا مقصد اس مقام کی زیارت کرنے والے مقامی اور بیرونی زائرین کو پیش کی جانے والی خدمات بہتر بنانا ہے۔

(more…)

لینہ” کے 300 کنوؤں کو “حضرت سليمان کے جنات” نے کھودا؟”

on
in

سعودی عرب کے شمال میں واقع گاؤں “لينہ” میں موجود کنوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ابھی تک حضرت سلیمان علیہ السلام کی عظیم سلطنت کی گواہی دینے والے معجزات ہیں۔ ان کنوؤں کی تعداد 300 کے قریب ہے اور یہ سخت اور سنگلاخ زمین میں کھودے گئے۔ اب ان میں سے 20 کے سوا باقی تمام ہی کنوئیں زمین میں دھنس چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کنوؤں کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے جِنّات نے کھودا تھا تاکہ بیت المقدس سے یمن کے سفر کے دوران حضرت سلیمان کی فوج ان سے سیراب ہو سکے۔

سعودی عرب کی شمالی سرحد کے نزدیک رفحاء سے 100 کلومیٹر جنوب میں واقع “لینہ” گاؤں تاریخی اہمیت اور تزویراتی محلِ وقوع رکھتا ہے۔ یہ سیر و تفریح کے متوالوں کے لیے ہمیشہ سے پُرکشش مقام رہا ہے۔

تاریخی محقق حمد الجاسر نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو بتایا کہ اس گاؤں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ الجاسر کے مطابق “حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں اُن کے جنّات نے حیران کن طور پر سخت چٹانوں میں اِن کنوؤں کو کھودا۔ لینہ گاؤں اپنے 300 کنوؤں کے سبب جانا جاتا ہے جن کا پانی میٹھا تھا۔ تاہم ان میں زیادہ تر حوادثِ زمانہ کا شکار ہو کر عدم توجہی کے باعث ختم ہو چکے ہیں”۔

ایک قدیم مؤرخ اسماعیل بن ابو زیاد السکونی نے بھی یاقوت الحموی کی “معجم البلدان” کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ ” عراق کے صوبے واسط سے مکہ مکرمہ کی جانب سفر کریں تو چوتھا پڑاؤ لینہ ہوتا ہے۔ اس کے بارے میں کہا گیا کہ یہاں 300 چشمے بھی ہیں۔ یہاں چشموں سے مراد “کنوئیں” ہیں اس لیے کہ لینہ میں کوئی چشمہ نہیں پایا جاتا ہے”۔

(more…)

اللہ تعالی اور موسی علیہ السلام کے پہلے کلام کا مقام!

on
in

مصر کے صوبے جنوبی سیناء کے شہر سینٹ کیتھرین میں واقع “جبلِ شریعہ” وہ مقام ہے جہاں اللہ تعالی نے اپنے رسول موسی علیہ السلام سے کلام کرتے ہوئے فرمایا تھا “إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى”.


آثارِ قدیمہ کے ماہر ڈاکٹر عبد الرحيم ريحان (سیناء میں آثاریاتی تحقیقی مطالعے سے متعلق ادارے کے ڈائریکٹر جنرل) نے “العربیہ ڈاٹ نیٹ” کو باور کرایا کہ تمام مطالعوں سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ اسی مقام پر اللہ عزوجل نے تجلی فرمائی اور یہاں واقع علیق کے درخت کے پیچھے آگ روشن ہوئی تھی۔ یہ حضرت موسی علیہ السلام کا سیناء کا پہلا سفر تھا۔ یہاں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا تھا “إني أنا ربك فاخلع نعليك إنك بالوادي المقدس طوى”۔ اللہ رب العزت نے حضرت موسی علیہ السلام کے دوسری مرتبہ اس پہاڑ پر آنے کے موقع پر تجلی فرمائی اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اللہ تعالی کا اسی بارے میں ارشاد ہے “فلما تجلى ربه للجبل جعله دكا”۔


ڈاکٹر عبدالرحیم کا مزید کہنا تھا کہ اللہ تعالی نے مصر کو بہت بڑا شرف بخشا ہے کہ یہاں مقدس وادی طوی میں جبلِ شریعہ واقع ہے۔ جس طرح “والتین والزیتون” سے بیت المقدس کو شرف بخشا گیا ، “طور سینین” درحقیقت سیناء ہے اور “والبلد الامین” مکہ مکرمہ ہے۔

(more…)